ابنا: شمال مشرقی بھارتی ریاست آسام میں سو سے زائد افراد کے ایک گروہ نے کانگریس پارٹی کی رکن پارلیمنٹ رومی ناتھ پر حملہ کرکے انھیں اور انکے شوہر کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ مشتعل افراد کے حملے کی وجہ رومی ناتھ کی مسلمان ذکی ذاکر سے دوسری شادی بتائی جاتی ہے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب یہ نوبیاہتا جوڑا ہفتے کی شب ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا۔ واضح رہے کہ تینتیس سالہ رومی ناتھ برخولہ کے حلقے سے اسمبلی کی رکن ہیں اور انھوں نے گزشتہ ماہ اسلام قبول کرکے ذکی ذاکر سے شادی کی ہے۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رومی ناتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر شراب کے نشے میں مدہوش جنونی نوجوانوں نے حملہ کیا، آبرو ریزی کرنے کی کوشش کی اور کپڑے پھاڑ ڈالے۔ رومی کے مطابق انھوں نے جب سے شادی کی ہے، اسے ایک سیاسی مسئلہ بنا کر ایک سیاسی سازش کی گئی ہے۔
دریں اثناء مقامی ایس پی پردیپ پجاری نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ میں ملوث پانچ ملزمان کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ادھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حملہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ یہ جوڑا حملے والے دن کسی مندر میں گیا تھا۔ رومی ناتھ نے دو ہزار چھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم بعد میں انھوں نے کانگریس میں شامل ہو کر دو ہزار گیارہ میں دوبارہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔
رومی کے سابق شوہر راکیش سنگھ، جس سے اسکی ایک دو سالہ بیٹی بھی ہے، نے گزشتہ ماہ مقدمہ درج کرایا تھا کہ اسکی بیوی لاپتہ ہے۔ تاہم رومی ناتھ نے منظر عام پر آکر اعلان کیا کہ اس نے فیس بک کے اپنے ایک دوست سے مسلمان ہو کر اپنی مرضی سے دوسری شادی کرلی ہے۔ ادھر کانگریس نے رومی پر حملے کی مذمت کی ہے۔
.....
/169